اہلبیت نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران کے خطیب جمعہ حجۃ الاسلام والمسلیمن جناب کاظم صدیقی نے آج نماز جمعہ کے خطبوں میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک مذاکرات کے نئے دور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے ایٹمی سرگرمیوں کے آغاز سے ہی شفافیت کی بنیاد پر عمل کیا ہے اور ایسا کوئی کام انجام نہیں دیا ہے جو عالمی معاشرے کی سلامتی کے لئے کوئی خطرہ ہو ۔
حجۃ الاسلام صدیقی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مغرب کو چاہئے کہ مذاکرات میں اعتماد کی بحالی کا مظاہرہ کرے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے اپنے مذاکرات میں ثابت کردیا ہےکہ وہ فہم و بصیرت کو بروئےکار لا رہا ہے ۔
تہران کے خطیب نماز جمعہ نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ یورینم کی افزودگي ایران کا مسلمہ حق ہے اور طبی ، صنعتی اور زراعتی ضروریات بر طرف کرنے کے لئے جوہری ٹکنالوجی سےاستفادہ ، ملک کی ترقی میں اہمیت کا حامل ہے کہا کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ماضی کی مانند جوہری توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی کے زیر نگرانی انجام پارہی ہیں ۔
انہوں نے اسی طرح مغربی ملکوں میں جاری بحرانی اقتصادی صورتحال اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ بہت سے ملکوں کی جانب سے تعلقات سازگار بنانے کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات میں کمزور اور لچکدار موقف کے ساتھ شرکت نہيں کرتا ہے اور مغربی ملکوں کو چاہئے کہ وہ ایران کے خلاف ظالمانہ اور غیر منطقی پابندیاں ختم کردیں ۔
تہران کے خطیب جمعہ نے عراق ميں جاری دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردانہ واقعات ایسے میں انجام پارہے ہیں کہ بین الاقوامی اداروں نے استکباری طاقتوں کی حمایت کے سبب اس سلسلے میں کوئي عملی اقدام انجام نہيں دیاہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
حجۃ الاسلام صدیقی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مغرب کو چاہئے کہ مذاکرات میں اعتماد کی بحالی کا مظاہرہ کرے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے اپنے مذاکرات میں ثابت کردیا ہےکہ وہ فہم و بصیرت کو بروئےکار لا رہا ہے ۔
تہران کے خطیب نماز جمعہ نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ یورینم کی افزودگي ایران کا مسلمہ حق ہے اور طبی ، صنعتی اور زراعتی ضروریات بر طرف کرنے کے لئے جوہری ٹکنالوجی سےاستفادہ ، ملک کی ترقی میں اہمیت کا حامل ہے کہا کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ماضی کی مانند جوہری توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی کے زیر نگرانی انجام پارہی ہیں ۔
انہوں نے اسی طرح مغربی ملکوں میں جاری بحرانی اقتصادی صورتحال اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ بہت سے ملکوں کی جانب سے تعلقات سازگار بنانے کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات میں کمزور اور لچکدار موقف کے ساتھ شرکت نہيں کرتا ہے اور مغربی ملکوں کو چاہئے کہ وہ ایران کے خلاف ظالمانہ اور غیر منطقی پابندیاں ختم کردیں ۔
تہران کے خطیب جمعہ نے عراق ميں جاری دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردانہ واقعات ایسے میں انجام پارہے ہیں کہ بین الاقوامی اداروں نے استکباری طاقتوں کی حمایت کے سبب اس سلسلے میں کوئي عملی اقدام انجام نہيں دیاہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲